ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مجھے افسوس ہے کہ مرکز کی طرح ریاست میں بی جے پی حکومت نہیں ہے وسط مدتی انتخابات کی باتیں مخلوط حکومت گرنے کا اشارہ ہیں: یڈیورپا

مجھے افسوس ہے کہ مرکز کی طرح ریاست میں بی جے پی حکومت نہیں ہے وسط مدتی انتخابات کی باتیں مخلوط حکومت گرنے کا اشارہ ہیں: یڈیورپا

Sun, 30 Jun 2019 10:46:48    S.O. News Service

بنگلور،30؍جون (ایس او  نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر بی ایس یڈیورپا نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کی طرز پر ریاست میں بھی بی جے پی حکومت ریاستی عوام چاہتے ہیں۔ اور انہیں افسوس ہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی مخلوط حکومت کب گرے گی اس کا پتہ نہیں۔ کانگریس اور جنتادل (سکیولر) کے اراکین اسمبلی کو ہم نے طلب نہیں کیا ہے۔ وہ خود آکر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ وجئے نگر علاقے میں گووند راج نگر اور جئے نگر اسمبلی حلقوں کے پارٹی کارکن سے تہنیت قبول کرنے کے بعد ایڈی یورپا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست میں بی جے پی پارٹی کوبر سراقتدار ہونا چاہئے تھا۔ 103اراکین اسمبلی کی بجائے 115ہوتے تو مرکز میں نریندر مودی حکومت کے طرز پر ریاست میں بھی بی جے پی حکومت قائم ہوتی، اس معاملہ میں ریاستی عوام کو دکھ ضرور ہے۔وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس بیان پر کہ ووٹ بی جے پی کے لئے اور ہم سے مسائل حل کرنے کی امید! اس پرریاستی بی جے پی صدر نے کہا کہ مذکورہ دونوں قائدین کو اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام نے کانگریس اور جنتادل (سکیولر) کو صحیح سبق سکھایا ہے۔ اس کے باوجود انہیں عقل نہیں آئی ہے۔یڈیورپا نے کہا کہ موجودہ ریاستی مخلوط حکومت کبھی بھی گر سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 13ماہ میں ہی وسط مدتی انتخابات کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ موجودہ مخلوط حکومت کی ساجھیدار پارٹیوں کوانتظامیہ چلانے میں دشواری محسوس ہورہی ہے تو استعفیٰ دے کر ہٹ جائیں۔ ایڈی یورپا نے کہا کہ ریاست میں قحط سالی ہے۔ پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ در پیش ہے۔ ان حالات میں مسائل کو حل کرنے کی بجائے وزیراعلیٰ بیرونی ممالک کے دورہ میں اپنی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں غیر ذمہ دارحکومت ہے۔ عوام کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ عوام دیہات میں کس طرح زندگی گزار رہے ہیں اس کا معائنہ کرنے کا وزیر اعلیٰ اور ریاستی وزارت کو وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے ان نتائج کو دیکھنے کیلئے اننت کمار کو رہنا چاہئے تھا۔ پریشانی کے دنوں میں اننت کمار کے ساتھ مل کر انہوں نے ریاست میں پارٹی کو مضبوط و مستحکم کرنے کی جدوجہد کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اننت کمار کی عدم موجودگی میں مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڈا،اراکین پارلیمان پی سی موہن، تیجسوی سوریا پر کافی اہم ذمہ داری عائد ہے۔ شہر کے 28اسمبلی حلقوں میں بھی بی جے پی کو جیت درج کرنا چاہئے۔اس وقت تک ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔اس موقع پر آر اشوک، سابق وزیر وی سومنا نے خطاب کیا۔ تقریب میں پارٹی کے دیگر لیڈر بھی شریک تھے۔


Share: